یو اے ای کارپوریٹ ٹیکس — نئی حقیقت
یو اے ای نے پہلی بار کارپوریٹ ٹیکس نافذ کیا جو 1 جون 2023 سے نافذ العمل ہے۔ Federal Decree-Law No. 47 of 2022 کے تحت، کاروباری منافع پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ یہ ٹیکس ذاتی آمدنی (تنخواہ) پر نہیں — صرف کاروباری منافع پر ہے۔
تین شرحیں ہیں: 0% (AED 375,000 تک منافع)، 9% (AED 375,000 سے زیادہ منافع)، اور 15% (بڑی کثیر القومی کمپنیاں — Pillar Two کے تحت)۔ زیادہ تر چھوٹے کاروبار — جن کا سالانہ منافع AED 375,000 سے کم ہو — 0% شرح سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
یاد رہے: یہ ٹیکس ٹرن اوور (آمدنی) پر نہیں بلکہ منافع (Taxable Income) پر ہے۔ اگر آپ کی آمدنی AED 2 ملین ہے لیکن اخراجات AED 1.8 ملین ہیں تو منافع AED 200,000 ہے اور ٹیکس صفر ہوگا۔
تین شرحوں کی وضاحت
0% شرح: AED 375,000 تک قابل ٹیکس آمدنی پر کوئی کارپوریٹ ٹیکس نہیں۔ یہ چھوٹے کاروبار کو ترقی کا موقع دیتا ہے۔ یو اے ای میں ہزاروں پاکستانی چھوٹے کاروبار اس حد سے نیچے ہیں اور انہیں کوئی ٹیکس نہیں دینا۔
9% شرح: AED 375,000 سے زیادہ منافع پر 9% ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ اہم بات: صرف حد سے اوپر کی رقم پر 9% — سیدھا 9% نہیں لگتا۔ مثلاً AED 500,000 منافع پر: پہلے 375,000 پر 0%، باقی 125,000 پر 9% = AED 11,250 ٹیکس۔
15% شرح: Pillar Two Global Minimum Tax — صرف ان بین الاقوامی گروپوں پر لاگو جن کی عالمی آمدنی EUR 750 ملین (تقریباً AED 3 ارب) سے زیادہ ہو۔ زیادہ تر یو اے ای کاروبار اس سے متاثر نہیں۔
| قابل ٹیکس آمدنی | شرح | مثال (ٹیکس) |
|---|---|---|
| AED 0 – 375,000 | 0% | AED 0 |
| AED 375,001 اور اوپر | 9% | فاضل رقم × 9% |
| EUR 750M+ عالمی آمدنی والے گروپ | 15% (Pillar Two) | علیحدہ اصول |
چھوٹے کاروبار کی ریلیف — AED 3 ملین حد
Small Business Relief (چھوٹے کاروبار کی رعایت) ان کاروبار کے لیے ہے جن کی سالانہ آمدنی (Revenue) AED 3,000,000 سے زیادہ نہ ہو۔ یہ ریلیف 31 دسمبر 2026 تک دستیاب ہے (تجدید ممکن)۔
اس ریلیف کا مطلب یہ ہے کہ اہل کاروبار اپنی Tax Period کو 'صفر ٹیکس' کے طور پر ٹریٹ کر سکتے ہیں — یعنی پیچیدہ حساب کتاب سے بچ سکتے ہیں اور صرف آسان رپورٹنگ ہوگی۔ یہ پاکستانی چھوٹے کاروباریوں کے لیے بہت اہم رعایت ہے۔
ریلیف لینے کے لیے FTA میں درخواست دینی ہوگی اور ہر ٹیکس سال کے لیے اس کا انتخاب کرنا ہوگا۔ آٹو میٹک نہیں ملتی — درخواست ضروری ہے۔
فری زون کمپنیاں — QFZP استثنیٰ
QFZP یعنی Qualifying Free Zone Person وہ فری زون کمپنیاں ہیں جو کچھ شرائط پوری کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں اپنی 'Qualifying Income' (اہل آمدنی) پر 0% کارپوریٹ ٹیکس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
Qualifying Income کیا ہے؟ فری زون سے باہر (یو اے ای مین لینڈ) کو فراہم کی جانے والی خدمات یا اشیاء پر 9% ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ دوسرے فری زونز یا غیر ملکی گاہکوں سے آمدنی Qualifying Income ہو سکتی ہے۔ یہ اصول پیچیدہ ہیں — ٹیکس مشیر سے ضرور مشورہ کریں۔
اہم: فری زون میں کمپنی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ خودبخود QFZP ہیں۔ اہلیت کے لیے کم از کم اخراجات، Substance (حقیقی موجودگی)، اور دیگر شرائط پوری کرنی ہوتی ہیں۔ FTA کی ویب سائٹ پر تفصیلی رہنمائی دستیاب ہے۔
پاکستانی ملکیت کے SME — عملی باتیں
یو اے ای میں پاکستانی ملکیت کے چھوٹے اور درمیانے کاروبار (SME) عموماً تجارت، تعمیرات، آئی ٹی خدمات، اور ریستوران جیسے شعبوں میں ہیں۔ اگر سالانہ منافع AED 375,000 سے کم ہے تو کارپوریٹ ٹیکس صفر ہے — لیکن رجسٹریشن اور ریٹرن جمع کرانی پھر بھی ضروری ہو سکتی ہے۔
کارپوریٹ ٹیکس کے لیے FTA میں رجسٹریشن لازمی ہے — چاہے ٹیکس صفر ہو۔ رجسٹریشن آن لائن EmaraTax پورٹل (tax.gov.ae) سے ہوتی ہے۔ مالی سال ختم ہونے کے 9 ماہ کے اندر ٹیکس ریٹرن جمع کرانی ہوتی ہے۔
پاکستانی کاروباریوں کو مشورہ: ٹیکس اکاؤنٹنٹ سے مدد لیں — یو اے ای ٹیکس قوانین نئے ہیں اور غلطی پر جرمانے بھاری ہیں۔ ابتدائی اخراجات سے بچنے کے لیے پہلے سال سے صحیح ریکارڈ رکھنا شروع کریں۔
کارپوریٹ ٹیکس کا حساب — عملی مثال
مثال 1 — چھوٹی ٹریڈنگ کمپنی: سالانہ آمدنی AED 2,000,000، اخراجات AED 1,700,000، منافع AED 300,000۔ چونکہ منافع AED 375,000 سے کم ہے، ٹیکس = 0۔ اگر Small Business Relief کا انتخاب کریں تو رپورٹنگ بھی آسان ہے۔
مثال 2 — درمیانہ IT کمپنی: سالانہ آمدنی AED 5,000,000، اخراجات AED 4,000,000، منافع AED 1,000,000۔ ٹیکس حساب: پہلے AED 375,000 پر 0% = AED 0۔ باقی AED 625,000 پر 9% = AED 56,250۔ مؤثر ٹیکس شرح = 56,250 / 1,000,000 = 5.6 فیصد (9 فیصد سے کم کیونکہ پہلی AED 375,000 معاف ہے)۔
Calcureal کا Corporate Tax کیلکولیٹر تین کمپنی کی اقسام (مین لینڈ، فری زون، گروپ)، Small Business Relief ٹوگل، اور Pillar Two فلیگ کے ساتھ فوری حساب دیتا ہے — سب کچھ اردو میں سمجھنے کے لیے کیلکولیٹر ضرور استعمال کریں۔